ڈنمارک: ایک چھوٹا جنگجو نما ملک؟

ڈنمارک: ایک چھوٹا جنگجونما ملک؟

از: نصر ملک

ایڈیٹر

اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے

ڈینش حکومت نے اگلے دس سال کے لیے اپنی خارجہ و سیکورٹی امور سے متعلقہ حکمت عملی پر مشتمل رپورٹ پیش کر دی ہے ۔ کئی ایک سیاسی مبصرین اور حساس قومی امور پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کے مطابق، اس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ (عالمی سطح) پر جنگی جرائم کا سر اٹھانا اور اسی طرح کے دوسرے حالات کا پیدا ہو جانا، ڈنمارک کو ایک غلط سمت میں لے جائے گا ۔

حکومت نے خارجہ و سیکورٹی امور سے متعلقہ جوحکمت عملی پیش کی ہے، اس میں یورپی یونین اور خاص کر نیٹو کے ساتھ ڈنمارک کے تعاون و اشتراک کو بڑھانے اور مضبوط ترین بنائے جانے کے لیے زور دیتے ہوئے اس سلسلے میں حکومتی کاوشوں کو جاری رکھنے اور ڈنمارک کی تعمیر نو کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی خارجہ و سیکورٹی کے امور سے متعلقہ حکمت عملی پر جاری کی گئی یہ دستاویز ایک شرمناک تصویر پیش کرتی ہے کہ ڈنمارک جیسا ’’ جنگجو نما ‘‘ چھوٹا سا ملک آنکھیں بند کیے بڑی استعماری قوتوں کی نقش قدم پر چل رہا ہے ۔

اِس حکمت عملی کے مطابق، یورپی یونین کے بارے میں مبینہ طور پر حکومت کا نقطۂ نظر ایک ایسی ’’ مضبوط اور مؤثر یورپی یونین کا ہونا ضروری ہے جو دنیا میں ڈنمارک کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ایک ٹھوس پلیٹ فورم ثابت ہو اور خاص کر ایک ایسے وقت پر جب امریکہ میں ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ’’ ورلڈ آرڈر ‘‘ بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

لیکن جب ڈینش حکومت یورپی یونین کے مضبوط ہونے اور ترقی کرنے کی خواہش کا اظہار کرتی ہے تو یہ صرف ترقی و قوت کے ابتدا کی بات نہیں ۔

حکومت یورپی یونین کی خارجی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کوششوں کو نہ صرف وسعت دینا چاہتی ہے بلکہ انہیں مضبوط ترین بنائے جانے کے لیے بھی زور دے رہی ہے اور اس میں حصہ داری کے لیے ’’ عملہ اور اپنی صلاحیتیں‘‘دونوں کو نمایاں طور پر بروئے کار لانا چاہتی ہے ۔

حکومت نے ۲۰۱۹ء کے موسم خزاں میں، ڈنمارک کی یورپی یونین کی بینکنگ یونین تک رسائی کے لیے مذاکرات اور بحث مباحثوں کی راہ کھول دی ہے ۔

حکومت یورپی یونین میں ڈنمارک کے تحفظات پر یوں بحث کیے جانے کی توقع رکھتی ہے کہ ان تحفظات کے اثرات تحلیل ہو جائیں ۔ اور ڈینش ( اسلحہ ساز) انڈسٹری یورپی یونین کے ممالک کی جنگی اسلحہ ساز انڈسٹری میں پوری طرح انٹگریٹ ہو جائیں ۔

حکومتی حکمتِ عملی کی اِس دستاویز میں صرف دو بار کہا گیا ہے کہ، ’’ ہمیں اپنی لبرل اقدار کے لیے لڑنا ضروری ہے‘‘ ۔ اس طرح کے اختتامیہ پر حیرت کی قطعاً ضرورت نہیں کہ حکومت نے اپنی اس حکمت عملی میں سماجی تزنزل پذیری، دن بدن بڑھتی ہوئی عدم مساوات، کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے اقدامات اور ٹیکسوں میں کمی کے لیے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

حکومت نے بڑے فخریہ بلکہ ایک حد تک متکبرانہ انداز میں بتایا ہے کہ وہ نیٹو کے اُن فوجی اپریشنوں میں کس طرح بڑی کامیابی سے حصہ لیتی ہے جو مختلف ملکوں میں جاری ہیں اور اس طرح آنے والے سالوں میں مزید پیسے اگرچہ خرچ پڑیں گے لیکن اپنے تحفظ کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے ۔ حکومت کے مطابق، ریاستہائے متحدہ امریکہ ڈنمارک کی سیکورٹی کی ضمانت دیتا ہے لہٰذا حکومت، یورپ میں اور دوسرے ملکوں میں امریکی مصروفیات کو برقرار رکھے جانے کی حمایت کرتی ہے ۔

جہاں تک ’’آرکٹک‘‘ کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ’’ڈنمارک ایک بڑی قوت ہے‘‘ کیونکہ یہ ڈنمارک ہی ہے جو گرین لینڈ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا تعین کرتا ہے ۔ حکومت ’’آرکٹک ‘‘ کی پر امن ترقی کے لیے بڑے لمبے چوڑے دعوے کرتی اور خوش کن الفاظ استعمال کرتی ہے لیکن ان سب کے باوجود نیٹو شمالی اٹلانٹک پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ ہمیں خود اور اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کے ساتھ آرکٹک اور شمالی اٹلانٹک میں پیش رفت سے متعلق ہونا لازمی ہے ۔

سیاسی تجزیہ کار اور دفاعی امور کے ماہر متفق ہیں کہ حکومت کی یہ حکمت عملی در اصل ’’ آرکٹک ‘‘ کو امریکی عسکریت پسندی کے لیے محفوظ راستہ مہیا کرنے کی کوشش ہی نہیں بلکہ جس طرح سرد جنگ کے دوران امریکی عسکریت پسندی کے لیے گرین لینڈ کی جو پوزیشن تھی وہ دوبارہ بحال کرنے کی جانب ممکنہ اقدامات کی نشاندھی بھی کرتی ہے ۔ اپنی اِس حکمت عملی میں ڈینش حکومت دنیا کی جس طرح تصویر کشی کرتی ہے اُس میں واشنگٹن، پیرس اور برلن ، تینوں دارالحکومت نمایاں و سر فہرست رکھے گئے ہیں اور انہیں وفادار اتحادی قرار دیا گیا ہے ۔ جب کہ چین اور روس کو دشمنوں کی صف میں شمار کیا گیا ہے ۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی اِس رائے سے اختلاف کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ ڈینش حکومت ایران پر تو تنقید کرتی اور ایران کے اندر حکومت مخالف علیحدگی پسند، دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی گروپوں کو نہ صرف اپنے ہاں پناہ دیئے ہوئے ہے بلکہ انہیں یہاں کوپن ہیگن میں اپنی کانفرنس منعقد کرنے کی بھی اجازت دے دیتی ہے لیکن ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت گیر رویہ رکھنے ، یمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے، اور اپنے ہی لوگوں کے اغوا اور قتل میں مبینہ طور پر ملوث سعودی عرب کے خلاف قطعاً لب کشائی نہیں کرتی ۔ حکومت شام پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام تو لگاتی ہے لیکن اسرائیل کی چیرہ دستیوں اور محکوم فلسطینیوں کے خلاف مسلح کارروائیوں کے متعلق کچھ نہیں کہتی اور نہ ہی اِسے کشمیر میں بھارتی عسکری جارحیت دکھائی دیتی ہے ۔

ہماری نظر میں یہ سبھی کچھ محض اس لیے ہے کہ جب کوئی حکومت دوسری بڑی قوتوں کے ایما پر اپنے دوستوں اور دشمنوں کا انتخاب کرتی ہے تو وہ خود اپنی نظر میں بیشک کتنی ہی درست کیوں نہ ہو ، وہ بڑی قوتوں کی آلۂ کار بن جاتی ہے اور اس وقت کم و بیش یہی صورت حال ڈنمارک کی ہے کہ وہ بڑی قوتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک ’’ جنگجو نما چھوٹا ملک ‘‘ بنتا جا رہا ہے ۔

(نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک )