ڈنمارک: بے گھر لوگ، محاسبہ سخت، شہر سے خارج

ڈنمارک : بےگھر لوگ، محاسبہ سخت، شہر سے خارج

از:  نصر ملک
ایڈیٹر
اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے

 ملک بھر میں اور خاص کر دارالحکومت کوپن ہیگن میں بے گھر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان میں نوجوان زیادہ ہیں ۔  شب بسری کے لیے قائم جگہوں پر پہلے ہی سے بے گھر لوگوں کی بھیڑ ہے اور سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ  موسم سرما کی یخ بستہ راتوں میں یہ لوگ کہاں جائیں گے اور  کیسے  گزر کریں گے؟
بے گھر افراد کی تنظیم ’’ ایس اے این ڈی‘‘ کے مطابق فی الوقت ’’بے گھر‘‘ رہنے پر ممانعت ہے ۔ کوئی فرد یہاں وہاں کسی بینچ پر  سو تو سکتا ہے لیکن اگر اُس کے پاس اُس کے سامان سے بھرے تھیلے وغیرہ ہوں ،  یا اس کے پاس خوراک کے ڈبے اورخود کو گرم رکھنے کے لیے کافی یا چائے سے بھرے تھرموس ہوں تو  ایسی صورت میں سمجھا جاتا ہے کہ متعلقہ فرد نے کوئی ’’کیمپ ‘‘ لگا رکھا ہے  جس کی ہرگز اجازت نہیں ۔ اور یوں وہ فرد بینچ پر سونے کا حقدار  بھی نہیں رہتا ہے ۔
اس صورت حال میں بے گھر افراد کے پاس اِس کے سوا کوئی متبادل راہ نہیں رہ جاتی کہ وہ گلیوں بازاروں میں چکر کاٹتے ہوئے دن گزاریں اور رات بسر کریں ۔ کیونکہ ایسے افراد کی شب بسری کے لیے قائم جگہوں میں پہلے ہی سے اتنے بے گھر افراد ہوتے ہیں کہ  مزید  افراد کو وہاں کھپایا ہی نہیں جا سکتا ۔ اور اب تو  بے گھر افراد کو مخصوص علاقوں سے خارج کر دیے جانے کی وجہ سے انہیں  ان کی معمول کی زندگی سے بھی خارج کر دیا جاتا ہے ۔ اور یہی نہیں بلکہ انہیں ایک طرح سے یہ سزا دی جاتی ہے کہ اُن کے سروں پر چھت کیوں نہیں!‘‘
ٹی وی ٹو کے ایک دستاویزی پروگرام میں پچھلے دنوں بتایا گیا تھا کہ  ایک  بے گھر شخص جس نے حکام کے مطابق کوپن ہیگن میں شب  بسری کے لیے ایک ’’کیمپ‘‘ لگا رکھا تھا یعنی، اُس نے اپنے  سامان وغیرہ  سے بھرے تھیلے، بائیسکل ، ایک کتا اور کچھ دیگر اشیاء  ساتھ رکھی ہوئی تھیں، اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ ’’ تین ماہ کے لیے  کوپن ہیگن شہرمیں دکھائی نہ دے ۔‘‘
سن ۲۰۱۷ء کے موسم بہار سے بے گھر لوگوں کا اس طرح کے ’’کیمپ ‘‘ لگانا ایک ’’مجرمانہ اور قابل گرفت  فعل‘‘ قرار دیا جا چکا ہے۔  اور کوپن ہیگن کی پولیس اِس ضابطے  پر بڑی سختی سے عمل  کر رہی  ہے ۔ ٹی وی ٹو نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ موسم گرما سے اب تک  اس ضابطے کے تحت کم و بیش چار سو بے گھر افراد پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے کچھ نہیں تو تین سو کے قریب رومانیہ کے  رہنے والے اور باقی ڈینش اور کچھ دوسرے ملکوں کے لوگ ہیں ۔
ہمارے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ بے گھر لوگ جنہیں شب بسری کے لیے قائم جگہوں پر سر چھپانے کے لیے جگہ ہی میسر نہیں ہوتی  وہ اس صورت حال میں کہاں جائیں ؟کیونکہ وہ جگہیں پہلے ہی سے بھری ہوتی ہیں ۔ اور پھر یہ بے گھر افراد عام لوگوں کے لیے کیسے خطرہ بن سکتے ہیں اور انہیں عدم تحفظ میں مبتلا کر سکتے ہیں ۔ کیا  ان بے گھر لوگوں کا محض کسی پارک، کسی گلی یا سڑک پر کسی بینچ پر سونا عام لوگوں کے تحفظ کے لیے کوئی خطرہ بن سکتا ہے؟
ہمیں اس پر خوشی ہے کہ رومانیہ کا ایک بے گھر فرد اس متذکرہ  ضابطے کو عدالت میں چیلنج کر رہاہے ۔ اس فرد کو پہلے کوپن ہیگن کی شہری عدالت نے اس مبینہ جرم  پر جرمانے کی سزا دی تھی کہ وہ اکیلا بینچ پر سو رہا تھا جہاں اس کا سامان بھی ادھر اُدھر پڑا ہوا تھا اور یہ سب کچھ ایک طرح کا ’’کیمپ ‘‘ ہی دکھائی دیتا تھا ۔ اب اِس فرد کو  یہ اجازت  مل گئی ہے کہ وہ اپنے خلاف شہری عدالت کے فیصلے کو  ’’ ہائی کورٹ ‘‘ میں چیلنج کر سکتا ہے ۔
ہائی کورٹ اب اس معاملے پر کیا فیصلہ کرے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ سوال اپنی  جگہ برقرار ہے کہ  اتنی بڑی تعداد میں موجود بے گھر افراد اور خاص کر بے گھر نوجوان موسم سرما میں کہاں جائیں گے ؟  بے گھر افراد کے لیے قائم جگہوں میں ان کے لیے کوئی خالی جگہ نہیں اور  نہ ہی کسی اور جگہ پر ان کے لیے’’حرارت ‘‘ کا  کوئی بندوبست ہے جہاں وہ شب بسری کر سکیں ۔  ان میں سے بیشتر بے گھر افراد کا  اپنے خاندانوں سے کوئی تعلق و ربط نہیں اور  کچھ ایسے بھی ہیں جن کا کوئی خاندان ہی نہیں ۔
اِن بے گھر افراد کے دوست یا جاننے والے اکثر و بیشتر ’’بے ترتیب آمدن ‘‘ پر گزر بسر کرتے ہیں ۔ مثلاً وہ نقد سماجی  گرانٹس یا پھر قبل از وقت پنشن کے پیسوں پر گزارہ کرتے ہیں اور وہ اپنے اِن بے گھر دوستوں کو اپنے ہاں اس لیے بھی گزارہ کرنے کی دعوت نہیں دے سکتے کہ اگر وہ ایسا کریں تو حکام کی نظر میں وہ  ’’ایک بے گھر کو اپنے ہاں رکھ کر اس ضابطے کی خلاف ورزی کرتے ہیں  جس کے تحت انہیں مکاناتی کرائے میں گرانٹ دی جاتی ہے ۔‘‘ اس طرح کسی بے گھر کو اپنے ہاں رکھنے پر وہ اس گرانٹ سے محروم ہو سکتے ہیں ۔ اس صورت حال میں ان بے گھر افراد کے لیے صرف گلی کوچے ہی باقی رہ جاتے ہیں جہاں وہ شب بسری کر سکتے ہیں ۔ لیکن اگر یہاں بھی وہ اپنے ’’سلیپنگ بیگ‘‘ میں  سو نہیں سکتے اور نہ ہی اپنا سامان وغیرہ ساتھ رکھ سکتے ہیں تو پھر سرما کی یخ بستہ راتوں میں وہ کیا کریں؟
ہمیں اس پر بہت دکھ اور افسوس ہے اور مایوسی بھی کہ  پارلیمانی ارکان کی بھاری اکثریت اِن بے گھر لوگوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کرتی ہے ۔
بدقسمتی سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ  جزوی طور پرنقد سماجی  گرانٹ اور  انضمام کے فوائد کی وجہ سے  بیشتر لوگوں کا انجام سڑکوں ہی پر ہو گا ۔ لہٰذا ہم  ان پارلیمانی ارکان سے جنہوں نے بے گھر افراد کے محاسبے کے لیے متذکرہ قانون بنایا، یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس پر  نظر ثانی کریں کیونکہ کوئی بھی بے خانماں فرد یوں سڑک پر مرنے کی سزا کا مستحق نہیں ہو سکتا ۔
( نصر ملک ۔ کوپن ہیگن  ۔ ڈنمارک )