ڈنمارک : روزگار کی منڈی میں عصری غلام

ڈینش روزگار کی منڈی میں غیر ملکی کارکنوں کی بدترین صورت حال

ڈنمارک: روزگار کی منڈی میں عصری غلام از : نصر ملک ایڈیٹر اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ڈنمارک میں انسانوں کی سمگلنگ کے خلاف کام کرنے والے سنٹر کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایسے ۷۴ غیر ملکی کارکنوں کی نشاندھی کی گئی ہے جنہیں حالیہ برسوں میں انسانی سمگلنگ اور جبری مزدوری کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اور یہ تعداد صرف اُن ٖغیر ملکیوں کی ہے جو اب تک سامنے آئے ہیں جب کہ چھپ چھپا کر ، غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی اصل تعداد تین چار ہزار تک ہو سکتی ہے اور انہیں غیر قانونی کام مہیا کرنے والے آجروں کی تعداد بھی کافی ہے ۔ ڈینش قومی ٹیلیویژن پر دکھائے گئے ایک دستاویزی پروگرام بعنوان، ’’ عصری غلام ‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ اس طرح انسانی سمگلروں کے توسط سے ڈنمارک پہنچنے والے ان غیر ملکیوں میں اکثریت مشرقی پورپ کے سابق کمیونسٹ ممالک سے تعلق رکھتی ہے جب کہ ان میں کچھ ایشیائی ملکوں کے باشندے بھی شامل ہیں ۔ ان غیر قانونی غیر ملکیوں کو ڈینش آجروں کی جانب سے زیادہ تر تعمیراتی حلقوں میں عمارت سازی کے کام پر لگایا جاتا ہے اور ان میں سے کئی ایک کو یہاں ڈنمارک لانے کے لیے اخراجات بھی ان آجروں نے خود ادا کیے ہوتے ہیں اور یوں یہ کارکن ہمیشہ کے لیے آجر کی ’’غلامی‘‘ میں آجاتے ہیں ۔ کیونکہ، وہ آجر جس کے لیے وہ کام کرتے ہیں انہیں پابند کردیتا ہے کہ وہ صرف کام سے کام رکھیں گے، کہیں اِدھر اُدھر جائیں گے نہیں ۔ انہیں بیشتر اوقات کام سے فارغ یا پولیس کے حوالے کر دیئے جانے اور یہاں تک کہ موت کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں ۔ اِن غیر ملکی کارکنوں کو سختی سے انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ کام کاج کی جگہوں ہر ماحولیاتی امورکی خرابیوں، حفاظتی سہولتوں کے فقدان یا اپنی (کم ترین) تنخواہوں اور اُن کی ادائیگی کے طریقۂ کار کے متعلق کہیں کوئی بات یا شکایت کریں گے یا کسی ٹریڈ یونین سے کوئی رابطہ کریں گے تو انہیں ملک بدر کروا دیا جائے گا۔ ان کارکنوں کو کئی کئی ماہ اور بعض اوقات سال سال بھر تنخواہ نہیں دی جاتی اور صرف گزارے کے لیے نقد کچھ رقم دے دی جاتی ہے اور اس طرح آجر ٹیکس میں دھوکا دہی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ یہ ۷۴ معاملات جو سامنے آئے ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ عمارتوں کی تعمیر سازی، ٹرانسپورٹ اور صفائی ستھرائی کے شعبوں میں اِس طرح کے غیر قانونی، غیر ملکیوں سے زیادہ کام لیا جاتا ہے ۔ ڈینش قومی ٹیلیویژن (ڈی آر ۔1) نےاپنے دستاویزی پروگرام میں تعمیراتی حلقوں میں ایک ایسے ’’ مجرمانہ نیٹ ورک ‘‘ کی نشاندھی کی ہے جہاں ان کارکنوں کے حقوق کا کسی بھی طرح سے کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا اور انہیں غلاموں جیسے طرز عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ متذکرہ ٹی وی پروگرام کے مطابق، مشرقی یورپ کے ممالک سے کئی لوگ تو آجروں کے ہتھے چڑھ کر یہاں آتے ہیں، آجر انہیں بہتر روزگار اور سہانے مستقبل کے خواب دکھاتے ہیں اور کئی لوگ اس سہولت کے تحت یہاں آتے ہیں جو یورپی یونین کے رکن ممالک کے باشندوں کو ملکوں کے درمیان آزادانہ نقل مکانی کرنے اور روزگار حاصل کرنے کے مواقعے مہیا کرتی ہے ۔ لیکن یہی سہولت اور اُن کی یہ آزادانہ نقل مکانی انہیں ڈنمارک میں جدید غلامی کے جال میں جکڑ دیتی ہے ۔ وہ آجروں کے ہتھے چڑ ھ جاتے ہیں ۔ شب بسری کے لیے وہ ناقابل رہائش جگہوں پر گزارہ کرتے ہیں ، بڑے شہروں کے باہر پارکوں میں بنچوں پر سوتے ہیں اور عمارتوں کے تہہ خانوں میں جہاں گرم پانی، گیس یا بعض اوقات بجلی تک کی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی وہاں گزر بسر کرتے ہیں اور زیادہ کرایہ ادا کرتے ہیں اور اگر آجر سے شکایت کریں یا کچھ سہولت مہیا کرنے کو کہیں تو وہ انہیں ایسی رہائشی جگہوں سے بھی بے دخل کرا دیتے ہیں ۔ یہ لوگ چونکہ ڈینش زبان نہیں جانتے اس لیے آجروں کے ساتھ اپنے کنٹریکٹ کی شرائط تک سے آگاہ نہیں ہوتے اور محض اپنی قسمت بدلنے اور کچھ پیسے کمانے کی خواہش میں ان پر دستخط کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ قانونی طور پر درست ہی ہوگا جب کہ ایسا نہیں ہوتا ۔ اسی متذکرہ پروگرام میں مشرقی یورپ کے بعض کارکنوں نے اپنی صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے آجروں کے طریق کار کو نہایت بے رحمانہ ، خلاف قانون اور انسانی حقوق کے سراسر منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک طرح سے جیل کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ لیکن جیلوں میں بھی قیدیوں سے جو بہتر سلوک روا رکھا جاتا ہے، جس طرح ان کے حقوق کا پاس کیا جاتا ہے، وہ سب کچھ خود انہیں حاصل نہیں ہے ۔ یورپی یونین کے رکن ممالک، اپنے اپنے ہاں، دوسرے رکن ملکوں سے افرادی قوت درآمد کرنے میں آزاد ہیں اور اسی طرح ان رکن ملکوں کے شہری خود بھی دوسرے رکن ملک میں جاکر روزگار حاصل کر سکتے ہیں اور اس طریق کار کے تحت ڈنمارک میں متذکرہ بالا حلقوں میں آجر ایسے لوگوں کا استحصال کرتے ہیں جو کسی پرائیویٹ روزگار مہیا کرنے والے ادارے کے توسط سے یا خود ہی روزگار کی تلاش میں یہاں آجاتے ہیں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس طرح لوگوں کو یہاں لانے اور روزگار کی منڈی میں ان کا استحصال کرنے اور ان سے کم ترین تنخواہوں پر جبراً کام کرانے والے کسی ادارے، سرغنے، اور آجر کے خلاف اب تک کوئی خاص اقدامات نہیں لیے گئے اور یہ ہی انہیں جبری محنت کرانے یا انسانوں کی سمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں عدالتوں کی جانب سے کوئی سزا وغیرہ دلوائی گئی ہے ۔ اور فی الوقت جس طرح کی صورت حال کی ٹی وی کے متذکرہ پروگرام میں نشاندھی کی گئی ہے، اس کی موجودگی میں ایسے اقدامات کا لیا جانا ڈنمارک میں فی الحال ناممکن دکھائی دیتا ہے ۔ ہماری نظر میں ان متذکرہ حلقوں میں بالخصوص اور ویسے بھی اس طرح کا استحصال کرنے والے آجروں کا محاسبہ کرنے کے لیے اور جن غیر ملکی کارکنوں کا استحصال کیا گیا ہے، ان کے واجبات کی ادائیگی کے لیے سخت قوانین کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان حلقوں میں یہ جابرانہ طرز عمل یوں پھیل رہا ہے کہ بعض اوقات اس کی نشاندھی کرنا تک مشکل ہو جاتی ہے ۔ اور آجروں کا کارکنوں کو دھمکیاں دینا، انہیں ملک بدر کرا دینا، ان کے خاندان کے افراد اور خود انہیں مار دینے کی دھمکیاں دینا کسی بھی لحاظ سے آج کے جدید ڈنمارک میں قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ آجروں کی جانب سے ایسے غیر قانونی کارکنوں کو استعمال کیے جانے سے روزگار کی منڈی میں حقدار کارکنوں کا بھی استحصال ہو رہا ہے اور ان کی خواہش کے باوجود انہیں روزگار نہیں ملتا کیونکہ آجروں کو انہیں بھاری تنخواہیں ادا کرنی پڑتی ہیں ۔ اور ٹیکس بھی ۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کارکنوں کو جو تعمیراتی حلقوں، ٹرانسپورٹ وپبلک اداروں مثلاً سکولوں، دفتروں وغیرہ میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں انہیں کسی ٹریڈ یونین یا روزگاری حلقوں کے نگران ادارے کی جانب سے کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور وہ اپنے حقوق کے لیے ان سے رجوع نہیں کر سکتے ۔ ان سب بد اعمالیوں کی روک تھام کے لئے سخت ضوابط کی ضرورت ہے ۔ ہماری نظر میں صرف ایسے کنٹیکٹروں کا عدالتوں میں لایا جانا ہی کافی نہیں جو اس طرح کا استحصال کرتے ہیں بلکہ ضروری ہے کہ روزگاری جگہوں کی صورت حال پر نگاہ رکھنے اورو ہاں کام کرنے والوں کی حالت کی نگرانی کرنے والا ادارہ، روزگاری جگہوں کی اصل صورت حال جاننے کے لیے ملک گیر تحریک چلائے جس میں ٹریڈ یونینوں اور پیشہ وارانہ متحرک تنظیموں کو اُن نیم جرائم پیشہ اور جرائمکار آجروں کا سراغ لگانا چاہیئے ۔ ہماری نظر میں روزگار کی منڈی میں اس غیر قانونی دھندے پر قابوپانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس بات کو مد نظر رکھیں اور حقیقت کا سامنا کریں کہ مزدوروں کا آجروں کے ہاتھوں یہی استحصال ریاستی نظام کو کمزور کرتا اور سماج میں عدم مساوات پیدا کرتے ہوئےآجروں کو مزدوروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقعے مہیا کرتا ہے اور انسانی سمگلنگ کی راہیں کھولتا ہے ۔ ( نصر ملک ۔ ایڈیٹر: اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے)