ڈینش سیاسی پارٹیاں : پس منظر

ڈینش سیاسی پارٹیاں : پس منظر

از: نصر ملک ۔ کوپن ہیگن

 ہمارے کئی قارئین ہم سے ڈینش سیاسی پارٹیوں کے متعلق استفسار کرتے اور مختلف نوعیت کے سوال پوچھتے ہیں ۔ خاص کر وہ  پاکستانی  جو پچھلے چند ایک برسوں میں گرین کارڈ پر یہاں آئے ہیں وہ ڈینش سیاسی پارٹیوں کے متعلق جاننے میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں ۔   ہم یہاں ڈینش سیاسی پارٹیوں کے متعلق کچھ معلومات پیش کر رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ  یہ ہمارے قارئین کے لیے سود مند ثابت ہوں گی ۔  ( نصر ملک  ۔ ایڈیٹر: اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے)
ڈینش سیاسی پارٹیاں:
ڈنمارک میں ایک  کثیر الپارٹی سیاسی نظام رائج ہے اور  نسبتاً  کئی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں ۔  یہ سیاسی پارٹیاں ڈینش جمہوریت میں ایک کلیدی و مرکزی کردار ادا کرتی ہیں اور عوام کے مختلف گروپوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اِس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ  معاشرے کو منظم کیسے کیا جانا چاہیئے ۔
ڈنمارک کا  ’’ آئینی ایکٹ ‘‘ اور سیاسی پارٹیاں:
ڈینش آئینی ایکٹ جو کہ سیاسی نظام کے لیے بنیادی اصول پر مشتمل ہے، اُس میں سیاسی پارٹیوں کا کوئی ذکر نہیں ،کیونکہ،  سن 1849  میں جب یہ آئینی ایکٹ نافذ  کیا گیا تھا تب سیاسی پارٹیوں کا  کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔ تاہم اب یہ سیاسی پارٹیاں دنیا کے دوسرے ملکوں کی  سیاسی پارٹیوں کی طرح ڈینش سیاسی زندگی میں بہت اہم  کردار ادا کرتی ہیں ۔  اصولاً دیکھا جائے تو ڈنمارک میں حکومتی سیاست، آئین مملکت میں درج بنیادی اصولوں سے بھی کہیں آگے کام کرتی ہے اور  روایتی، عام سماجی  ترقیات اور ملی خیالات ڈینش سیاسی زندگی کے حالات میں بہت اہم کردار ادا کرتےہیں ۔
سیاسی پارٹیوں میں شمولیت :
اصولاً ہر کوئی کسی بھی سیاسی پارٹی میں شامل ہو سکتا ہے لیکن لازم ہے کہ شمولیت کرنے والا پارٹی کے  قوائد و ضوابط اور اُس کی سیاسی پالیسیوں سے پوری طرح متفق ہو اور اُن پر عملدرآمد کرتا ہو ۔ ایک ہی وقت پر کسی ایک ہی پارٹی کا رکن بنا جا سکتا ہے اور ایک پارٹی کی رکنیت ہوتے ہوئے کسی دوسری پارٹی کی رکنیت اختیار نہیں کی جا سکتی ۔  فی الوقت ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کسی نا کسی پارٹی کے باقاعدہ رکن ہیں ۔
نوجوانوں کی تنظیمات :

کم و بیش سبھی سیاسی پارٹیوں کی ’’ یوتھ آرگنائزیشنز  یعنی نوجوانوں کے لیے تنظیمات ‘‘ ہوتی ہیں ۔  سیاست میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان ان تنظیموں میں شمولیت کر کے سیاسی ہنر اور پیچ و خم سیکھتے ہیں ۔ وہ اپنی اپنی پارٹی کی مختلف طریقوں سے مدد کرتے ہیں ۔ اور  نہ صرف ٖ پارٹی سیاستدانوں کے ساتھ مباحث  میں حصہ لیتے ہیں بلکہ اپنی پارٹی کے سیاسی ایجنڈے  کی تشہیر کے لیے کانفرنسیں اور عوامی اجتماعات کا بھی بندبست کرتے ہیں ۔ ملکی سیاسی پارٹیوں اور قومی سیاست میں نمایاں دکھائی دینے والے کم و بیش سبھی سیاسی رہنماؤں نے اپنی سیاست کا آغاز انہی یوتھ آرگنائزیشن میں شامل ہو کر کیا ۔
فی الوقت مندجہ ذیل سیاسی پارٹیاں، پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی کرتی ہیں
ان میں آخری الذکر چار پارٹیوں کا تعلق گرین لینڈ اور جزائر فیرو سے ہے
• The Danish Social Democrats
• The Danish People’s Party
• The Social Liberal Party
• The Socialist People’s Party
• The Red-Green Alliance
• Liberal Alliance
• The Conservative Party
• The Alternative
• Inuit Ataqatigiit
• Nunatta Qitornai
• Tjóðveldi
• Javnaoarflokkurin
مختصر تاریخی پس منظر :
سن 1849جب آئین مملکت نافذ کیا گیا تو ڈنمارک کی پہلی جمہوری پارلیمنٹ وجود میں آئی ۔  یہ ”Rigsdag’’ کہلاتی تھی اور دو ایوانوں پر مشتمل ہوتی تھی، ایوان بالا اور ایوان زیریں ۔ ایوان بالا کو  ’’لینڈزتھنگ ‘‘ بھی کہا جاتا تھا ۔ اُس زمانے میں سیاسی پارٹیوں کا کوئی وجود نہیں تھا ۔ کیونکہ  تب یہ رواج ہی نہیں تھا کہ لوگوں کو سیاسی پارٹیوں کے پلیٹ فورم سے آواز بلند کرنے کا موقع دیا جائے ۔ تاہم لوگ ایسے نمائندوں کا چناؤ ضرور کرتے تھے جو اُن کی نمائندگی کر سکیں ۔ ایسا کرتے ہوئے لوگ اپنے امیدوار کے سیاسی نظریات اور  ذاتی خصوصیات، سماجی اثر و رسوخ اور معاشری حیثیت وغیرہ کو زیادہ اہمیت دیتے اور سامنے رکھتے تھے ۔ ہر کوئی ’’ ریگسڈے‘‘ کا رکن نہیں بن سکتا تھا ۔ عورتوں کے لیے اس کا رکن بننا تو درکنار انہیں ووٹ دینے کا حق بھی نصیب
نہیں تھا  ۔  مَردوں کی کل  آبادی میں سے تیس سال کی عمر سے اوپر والے  ایک چوتھائی  مرد بھی اس حق سے محروم تھے اور یہاں تک کہ امراء کے نوکر چاکر اور مزارع  اور غریب لوگ بھی  اس عمل میں حصہ نہیں لے سکتے تھے ۔
پہلی سیاسی پارٹیوں کا قیام :
آئین مملکت کے نفاذ کےبعد ’’ ریگسڈے ‘‘ کے  وہ ارکان جو  آپس میں ملتے جلتے سیاسی نظریات و خیالات رکھتے تھے ، انھوں نے سیاسی مسائل پر گفتگو اور بحث مباحثے کے لیے  کلب بنانے شروع کر دیے  ۔ یہ کلبیں  اگرچہ کوئی زیادہ منظم نہیں ہوتی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اتنی قوت پکڑ گئیں کی سماج میں ان کی موجودگی کو  کافی اہمیت دی جانے لگی اور یہ عام لوگوں کی توجہ بھی حاصل کرنے لگیں  ۔ اور یوں1870  کے لگ بھگ یہ اتنی کارگر ہو گئیں کہ  ملک میں سیاسی پارٹیوں کی بنیادیں رکھنے کے لیے کلیدی سمجھی جانے لگیں ۔ سب سے پہلے دائیں بازو کی کنزرویٹوو پارٹی اور پھر کسی حد تک بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی لبرل پارٹی کا منظر عام پر آنا بھی’’ ریگسڈے‘‘ سے باہر انہی متذکرہ کلبوں کی وجہ سے وجود میں آیا۔ ان پارٹیوں نے اپنا دائرہ کار صرف انہی ارکان تک رکھا جو پہلے ہی سے ’’ریگسڈے ‘‘ کے لیے منتخب تھے ۔ اور اس طرح ریگسڈے میں صرف یہی دو پارٹیاں ایک دوسری کے مد مقابل تھیں ۔  لیکن بعد میں ان پارٹیوں نے اپنے اپنے علاقائی حلقوں میں بھی اپنی شاخیں قائم کر دیں ۔
متذکرہ دونوں پارٹیوں کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کہیں بعد میں یعنی 1871 میں ریگسڈے سے باہر  قائم کی گئی ۔ اس پارٹی نے اپنے کلیدی اصول کی بنیاد پر خود کو یوں منظم کیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہو سکیں اور ان سب کو پارٹی رکن تصور کیا جائے ۔ اور پھر سن  1880 میں پہلی بار سوشل ڈیموکریٹ پارلیمنٹ میں کچھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔
انیسویں صدی کے اختتام پر، ڈینش معاشرے میں سماجی اونچ نیچ اور  سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے خلیج بڑھنے لگی ۔ تینوں متذکرہ بالا پارٹیاں اپنی اپنی جگہ پر مخصوص لوگوں کے گروپوں کی نمائندگی کرتیں اور سماج میں بھی ایسے لوگوں کو ہی ساتھ ملاتی تھیں جو ان سے مکمل طور پر متفق ہوتے تھے ۔  دایاں بازو حقیقی جائدادیں رکھنے والوں اور سرکاری ملازمین کو اہمیت دیتا تھا تو یونائیٹڈ بایاں بازو کسانوں کی نمائندگی کرتا اور انہیں ترجیح دیتا تھا۔ جب کہ  سوشل ڈیموکریٹ عمومی کارکنوں کی نمائندگی کرتی تھی ۔  یونائیٹڈ لفٹ اور سوشل ڈیموکریٹ دونوں وسیع تر  سیاسی تحاریک  کا حصہ تھیں۔ جن میں کوآپریٹوو تحریک اور  لبیر موومنٹ سر فہرست تھیں ۔ یہ پارٹیاں اور ان کی تحاریک ہی 1929 ء میں ڈینش سماج میں سیاست کے مرکزی کردار کی محرک بنیں ۔
نئی پارٹیوں کی  ابتدا و عروج:
بیسویں صدی کے آغاز پر  کچھ سیاسی پارٹیاں پارلیمنٹ میں پہلے سے موجود پارٹیوں  ہی سے معرض وجود میں آئیں ۔  یعنی بعض ارکان پارلیمنٹ نے اپنی پارٹیوں کو چھوڑ کر نئی پارٹیوں کی بنیاد رکھی ۔  مثلاً 1905ء میں سوشل لیبرل پارٹی، لبرل پارٹی سے الگ ہو گئی ۔1959ء میں ڈینش کمیونسٹ پارٹی میں تضادات  نے سوشلسٹ پیپلز پارٹی کو جنم دیا ۔1967ء میں بائیں بازو کی  سوشلسٹ پیپلز پارٹی کے ایک دھڑے نے پروگریس پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ اور 1995ء  میں خود پروگیس پارٹی دو دھڑوں میں منقسم ہو گئی ۔ نیا دھڑا ڈینش پیپلز پارٹی کے نام سے سامنے آیا ۔
سن 2007ء میں ڈینش پارلیمنٹ  اور یورپی پارلیمنٹ میں ڈینش سوشل لیبرل پارٹی اور کنزرویٹوو پارٹی  کے ارکان پر مشتمل   ایک نیا سیاسی اتحاد سامنے آیا جسے  اگست 2008 میں لیبرل الائنس کا نام دے کر باقاعدہ  سیاسی پارٹی بنا دیا گیا ۔
دوسری سیاسی پارٹیاں جو فی الوقت پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتی ہیں وہ اُن سیاسی لوگوں کے گروپوں  کی قائم کردہ ہیں جو اپنی ہی پارٹی کے سیاسی ایجنڈے سے اختلاف رکھتے ہوئے الگ ہو گئے تھے  ۔ ایسے نئی سیاسی گروپ یا پارٹیاں، پارلیمنٹ سے باہر تو بڑے متحرک  ہیں اور اگر چاہئیں تو ضروری شرائط پوری کرتے ہوئے، انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمنٹ کے اندر بھی جا سکتے ہیں اور پچھلے چند ایک برسوں میں ایسا ہوا بھی ہے ۔
ریڈگرین ا لائنس (پارٹی) نے  پارلیمنٹ کے باہر سوشلسٹ ورکرز پارٹی  کے لفٹ وِنگ سوشلسٹوں  اور ڈینش کیمونسٹ پارٹی سے انتخابی اتحاد کیا اور فی الوقت یہ ایک بڑی متحرک و مؤثر تحریک کے طور پر یوں کام کر رہی کہ اس پر کسی دوسری پارٹی کا نہ کوئی اثر ہے اور نہ دباؤ ۔ یہ اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد و خود مختار ہے اور ابتدائی طور پر جن پارٹیوں کے ساتھ اس کا اتحاد تھا ان کے دائرے سے باہر نکل چکی ہے ۔ یعنی ایک آزاد پارٹی ہے ۔
کرسچیئن ڈیموکریٹ جو کبھی کرسچیئن پیپلز پارٹی کے نام سے جانی جاتی تھی بعض مخصوص پارٹیوں کے طرز عمل کے خلاف احتجاج کے طور پر قائم کی گئی تھی ۔ قانون کے مطابق ’’پورنو فرافک‘‘ مواد کی اشاعت و تشہیر اور ’’اسقاط حمل ‘‘ پر کوئی پابندی نہیں  اور اس پر پارٹی کو سخت اعتراض ہے ۔