کتاب چور گلزار ترجمے کے کام پر مامور

فنِ ترجمہ پر بات کرنے سے پہلے
یہ مان لیتے ہیں کہ ترجمہ ترجمہ ہے اور تخلیق تخلیق۔ دونوں عمل الگ ہیں۔ ضروری
نہیں کہ تخلیق کار اچھا ترجمہ نگار بھی ثابت ہو۔ تخلیق جب ہوتی ہے تو از خود ہو
جاتی ہے۔ ‘آمد’ کی کیفیت میں شاعر کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو تخلیقی قوت اسے بہا
لے جاتی ہے۔ اس کے برعکس ترجمہ کے عمل میں ۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *